حسین مظلوم(ع) کی عزاداری کیسے منائیں؟

حوزہ/ اماموں کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق سوگ منانا جسکی برحق مراجع نے بھی ترویج کی ہے اسے ہی واقعی عزاداری کہا جائے گا- اس سے ہٹ کر عزاداری جذباتی عزاداری تو ہو سکتی ہے مطلوبہ اور حقیقی عزاداری نہیں ہو سکتی۔

تحریر: مولانا ڈاکٹر سید عباس مھدی حسنی -مقیم قم-ایران

حوزہ نیوز ایجنسی | سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ انسانی تاریخ کا ایک حسّاس ترین باب ہے۔ آپ اور آپ کے اعزاء و اقرباء اور اصحاب باوفا نے حق و صداقت کے تحفظ اور جہل و ظلم و جبر کے خلاف قیام میں اپنے قیمتی سرمایہ حیات کو قربان کر دیا۔ اس عظیم قربانی کو ہمیشہ زندہ رکھنے اور اس کے پیغام کو عام کرنے کا بہترین ذریعہ عزاداری ہے۔ گزشتہ چودہ سوبرسوں میں عزاداری کے مختلف طریقے اپنائے گئے، لیکن بنیادی اصول وہی ہیں جو پیغمبرِ اسلام اور انکے اہلبیت نے اپنے قول و فعل سے سکھائے ہیں۔

عزاداری محض مرثیہ خوانی، گریہ و زاری، سینہ زنی اور ماتم داری کا نام نہیں؛ بلکہ یہ ایک جامع اور پُرمعنی تحریک و مشن ہے جو انسان اور انسانی سماج کو ہمہ جہت بیدار کرتا ہے۔ اہلبیت نبی نے عزاداری کو قیامِ حسینی اور اسکے مقاصد کی بقا کا ذریعہ بنایا اور خود بھی اس کی ترویج کی۔

ائمۂ اہلِ بیتؑ نے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری مختلف طریقوں سے منائی، جن میں یہ بعض نمایاں امور یہ ہیں:

✅واقعۂ کربلا کا ذکر کرنا اور لوگوں کو اس کی یاد دلانا۔

✅مصائبِ حسینؑ پر گریہ کرنا اور دوسروں کو بھی رُلانا یا غم کے اظہار کا ماحول بنانا-

✅مرثیہ اور نوحہ سننا اور پڑھنا۔

✅مجالسِ عزا منعقد کرنا اور اہلِ بیتؑ کے مصائب بیان کرنا۔

✅ ماہ محرم، خصوصاً روز عاشور غم و اندوہ کا اظہار کرنا-

اہلبیت رسول کی سیرتِ میں عزاداری کا طریقہ:

فرزند رسول امام سجاد(ع) جب بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کو یاد فرماتے تو اس قدر روتے کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوجاتی اس کے علاوہ آپؑ نے اپنی دعاؤں کی نشستوں میں پیغام کربلا کو عام کیا۔ عزاداری کا جو صحیح طریقہ بطور سنت رائج ہے اس کی بنیاد خود ائمہؑ اہلبیت نے رکھی ہے-

معصوم اماموں کے مطابق عزاداری صرف ایک جذباتی رسم نہیں بلکہ اللہ کی ایک عظیم نعمت اور اجر و ثواب کا ذریعہ ہے-

• حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: "اگر تم حسینؑ کے لیے اس قدر روؤ کہ تمہارے آنسو رخسار سے جاری ہو جائیں، تو خداوند عالم تمہارے تمام گناہوں کو بخش دے گا، خواہ وہ گناہ کم ہوں یا زیادہ" ۔

• ائمہ اطہار علیہم السلام کی نظر میں عزاداری کا ایک اور اہم فائدہ مومن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے قریب کرنا ہے-

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عزاداری کو روکنے یا اسے بے مقصد قرار دینے والے خیالات بے بنیاد ہیں کیونکہ اس کی ترغیب خود رسول و اہلبیت رسول نے دلایی ہے۔

عزاداری کے بعض اہم آداب :

دین مبین اسلام میں جس طرح دیگر عبادات کے لیے آداب معین ہیں، عزاداری حسین کے بھی کچھ آداب ہیں جو اس کی افادیت اور اجر و ثواب میں اضافے کا باعث بنتے ہیں :

الف: عزاداری میں قرآن و اہلبیت نبی(ص) کی تعلیمات کو اجاگر کرنا: خطباء اور ذاکرین کا کردار صرف لوگوں کو رلانا نہیں بلکہ ان میں اللہ و رسول و اہلبیت کی معرفت و محبت اور انکی بصیرت میں اضافہ ہونا چاہئے۔

ب-تقاریر اور اشعار کا مواد ایسا ہو جو عزاداروں کو "زمانے کے یزید" کی پہچان کرائے اور انہیں اس "حسینِ وقت"(امام زمانہ) کی مدد کرنے کی ترغیب دے ۔

ج. سیاہ پوشی: فقہی اعتبار سے عام حالات میں کالا لباس پہننا مکروہ ہے لیکن امام حسینؑ اور دوسرے معصومینؑ کی عزاداری کے ایام میں اسے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔

د. تعزیت و تسلیت: عزاداری کے دنوں میں ایک دوسرے کو "عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَکُمْ" (خدا آپ کے اجر کو عظیم فرمائے) کہہ کر تعزیت پیش کرنا بھی اہلبیت رسول کی سنتوں میں شامل ہے ۔

اہلبیت علیہم السلام کے اقوال و افعال کی روشنی میں عزاداریِ امام حسینؑ عبادت اور شعارِ الٰہی ہے۔ اس کے طریقے اور آداب معصوم اماموں کی طرف سے مشخص ہیں، جن میں گریہ و زاری، مجالسِ عزاء کا انعقاد، سیاہ پوشی اور سب سے اہم یہ کہ مجالس کو تعلیم و تربیت اور بصیرت افزائی کا ذریعہ بنانا شامل ہیں۔

ان طریقوں کو اپنانے سے نہ صرف ہم اپنے آقا و مولا سید الشہداء سے محبت کے تقاضوں کو پورا کرسکتے ہیں بلکہ آپ کے عظیم قیام کے پیغام کو ہمیشہ قائم و دائم رکھ سکتے ہیں-

اماموں کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق سوگ منانا جسکی برحق مراجع نے بھی ترویج کی ہے اسے ہی واقعی عزاداری کہا جائے گا- اس سے ہٹ کر عزاداری جذباتی عزاداری تو ہو سکتی ہے مطلوبہ اور حقیقی عزاداری نہیں ہو سکتی-

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha